75

قائدِ انقلاب مزا نہیں آیا!… ارشاد بھٹی

گزرے 70سالوں میں دو چار کو چھوڑ کر جو کام سب نے کیا، سب سے زیادہ کیا، وہ جھوٹ بولنا، بے وقوف بنانا، ایسا لگے سب نے جھوٹ بولنے، بے وقوف بنانے کا ٹھیکہ لے رکھا، اب تو پچھلے دس برسوں سے بڑوں نے جھوٹ کی نئی اصطلاح متعارف کروا دی، جسے ’یوٹرن‘ کہا جائے، جھوٹ بولو، بے وقوف بناؤ، وقت آئے، مکر جاؤ، جھوٹ گاڑی کا یوٹرن مارو، نئی سٹرک، نئے وعدے، نئے دعوے، نئے نعرے.

مطلب نئے سرے سے جھوٹ بولو، بے وقوف بناؤ، اپنے ہاں یوٹرنوں میں قائدِ انقلاب عمران خان شہرت کی بلندیوں پر، وہ یہ کہہ کر یوٹرنوں کو دوام بھی بخش چکے کہ ’’یوٹرن نہ لینے والا بے وقوف، یوٹرن نہ لینے والا لیڈر ہی نہیں‘‘، آج قائدِ انقلاب کے اسی شہرہ آفاق بیان پر بات کرنی.

لیکن یہ بتانا ضروری کہ جیسے یہ سچ کہ عمران کے 80فیصد یوٹرن ہومیو پیتھک، ان کو مالی فائدہ ہوا نہ ان کی اولاد مستفید ہوئی اور نہ قوم کی صحت پر کوئی اثر پڑا، ویسے یہ بھی سچ کہ اپنے ہاں یوٹرنوں کے ایسے جھارے پہلوان بھی جن کا ہر یوٹرن مفاد بھرا، ہر یوٹرن اپنے لئے، اپنوں کیلئے بلکہ ان کے سامنے تو عمران خان کے یوٹرن، یوٹرنیاں لگیں، یقین نہیں آ رہا تو بات آگے بڑھانے سے پہلے حاضرِ خدمت ہیں چند نمونے۔

پہلے ذکر، محبوب قائد نواز شریف کا، جنرل جیلانی کی انگلی پکڑ کر سیاست میں آئے میاں صاحب کا جیون یوٹرنوں سے لبالب بھرا ہوا، زیادہ پیچھے نہ جائیں، ماضی قریب کی بات کر لیں، اپنا فائدہ نظر آیا تو بی بی، لغاری کو سیکورٹی رسک قرار دیدیا، اپنا فائدہ نظر آیا تو بی بی سے میثاقِ جمہوریت کر لیا، اپنا فائدہ نظر آیا تو وزیراعظم گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ جا پہنچے.

اپنا فائدہ نظر آیا تو رائے ونڈ بلا کر زرداری صاحب کو 50ڈشیں کھلا دیں، اپنا فائدہ نظر آیا تو ’اینٹ سے اینٹ‘ بجانے والے زرداری کو چھوڑنے میں ایک منٹ نہ لگایا، اپنا فائدہ نظر آیا تو معافی تلافی کیلئے 3 ٹیمیں زرداری صاحب کے پیچھے دوڑا دیں، اپنا فائدہ نظر آیا تو ڈان لیکس غلط کہہ کر پرویز رشید، طارق فاطمی کو فارغ کر دیا.

اپنا فائدہ نظر آیا تو ڈان لیکس کو درست کہہ دیا، اپنا فائدہ نظر آیا تو دھرنوں کے پیچھے کوئی ہے کہنے والے مشاہد اللہ سے وزارت لے لی، اپنا فائدہ نظر آیا تو دھڑلے سے کہہ دیا کہ دھرنوں کے پیچھے واقعی کوئی تھا، اپنا فائدہ نظر آیا تو قومی اسمبلی میں ’’جناب اسپیکر یہ ہیں وہ ذرائع جن سے لندن فلیٹس خریدے‘‘ والی تقریر جھاڑ دی.

اپنا فائدہ نظر آیا تو سپریم کورٹ میں یہ کہہ کر کہ ’’اسمبلی تقریر تو سیاسی بیان‘‘ اور احتساب عدالت میں یہ فرما کر کہ ’’مجھے تو پتا ہی نہیں لندن فلیٹس کیسے خریدے گئے‘‘، اب یہ کہہ کر قصہ ہی مُکا دیا کہ ’’اسمبلی تقریر بیٹے حسین کے کہنے پر کر دی، استثناء دیاجائے‘‘۔

اپنا فائدہ نظر آیا تو قطری خط لا کر بولے ’’یہ ہے ہماری بے گناہی کا ثبوت‘‘ اپنا فائدہ نظر آیا تو فرما دیا ’’میرا قطری خط سے کیا لینا دینا‘‘ اپنا فائدہ نظر آیا تو جی ٹی روڈ مارچ، جلسے، جلوس، عوامی عدالتیں، پریس کانفرنسیں ’مجھے کیوں نکالا‘ کہہ کہہ کر زمین و آسمان ایک کر دیئے.

اپنا فائدہ نظر آیا تو ایسی خاموشی کہ سوال ان سے ہوا، یہ بولے ’’جواب مریم اورنگزیب دیں گی‘‘، اپنا فائدہ نظر آیا تو انقلابی، بغاوتی، مزاحمتی ہوئے، 70سالہ تاریخ بدلنے کو نکل پڑے، ووٹ کو عزت دینے کی ٹھان لی، اپنا فائدہ نظر آیا تو ’چپ کر دَڑ وٹ جا‘ بن گئے، یہ محبوب قائد کے چند قابلِ ذکر یوٹرن، بیسیؤں ناقابلِ ذکر یوٹرن اس کے علاوہ۔

زرداری صاحب کی سن لیں، ق لیگ قاتل لیگ، ق لیگ اقتدار کی ساتھی، اینٹ سے اینٹ بجائی، اینٹ سے اینٹ جوڑی، فرمایا:میری اور نواز شریف کی دوستی چھوڑیں، بلاول، حسن، حسین کی دوستی بھی چلے گی، کہا ’’نواز شریف درندہ، دھرتی کا ناسور، مُک گیا تیرا شو نواز، گو نواز گو نواز‘‘، زرداری صاحب انقلابی بھی ہوئے، مفاہمتی بھی ہو چکے، این آر او بھی کیا، اسٹیبلشمنٹ کو للکار بھی چکے، مضبوط وفاق کے حامی بھی، اٹھارہویں ترمیم کی آڑ میں سندھ کارڈ بھی کھیل چکے.
حکومت کو 6ماہ کی ڈیڈ لائن بھی دیدی، حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش بھی کر چکے، شریفس کی گرفتاری، احتساب کے حامی بھی، انہیں شریفس کی گرفتاری، احتساب پر تحفظات بھی، دن کی روشنی میں جنگجو، رات کے اندھیروں میں صلح جو، جب داؤ لگ جائے تو کہہ دیں ’’چیئرمین نیب کی کیا حیثیت، کیا مجال، میں تو حکومت کو تھریٹ کر رہا ہوں‘‘ جب داؤ نہ چلے تو راہداری ضمانت بھی کروا لیں، ایف آئی اے ڈائریکٹرز کے سامنے بھی پیش ہو جائیں، باتیں اور بھی مگر قصہ مختصر، جو کچھ کیا، اپنے فائدے کیلئے، جو کچھ ہو گا، اپنے فائدے کیلئے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی سنتے جائیے، مشرف کے ساتھ کھڑے ہوئے، پی پی کے شریکِ اقتدار رہے، لیگی دور میں بھی اقتدار کے مزے لوٹے، اس بار خود ہار گئے تو فرمایا ’’یہ اسمبلیاں جعلی، یہ مینڈیٹ نقلی، دیکھتا ہوں جعلی اسمبلی حلف کیسے اُٹھاتی ہے‘‘، پھر سب نے دیکھا مولانا کے اپنے اراکینِ اسمبلی نے بھی حلف اُٹھایا، جعلی اسمبلیوں میں ان کے بیٹے نے ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن بھی لڑا اور آخر میں خود بحیثیت صدارتی امیدوار انہی جعلی اسمبلیوں کے اراکین سے ووٹ بھی مانگے۔

یہاں جماعتِ اسلامی کا ذکر نہ کرنا بھی زیادتی، یہ کے پی میں تحریکِ انصاف کی ساتھی، یہ آزاد کشمیر میں ن لیگ کی اتحادی، یہ کے پی اسمبلی میں پرویز خٹک کے ساتھ، یہ قومی اسمبلی میں نواز شریف کے ساتھ، یہ منصورہ بلا کر کھانا کھلائیں زرداری صاحب کو اور دعوے کرپشن فری پاکستان کے۔

یہ چند موٹی موٹی مثالیں، بتانا یہ کہ قوم کا سوا ستیاناس کر چکے یوٹرنوں کے اصل جھارے پہلوان تو یہ، سب نے یوٹرن مارے، موقع ملا تو ماریں گے لیکن چونکہ کسی سے کوئی توقع نہیں، لہٰذا کسی سے کوئی شکوہ نہیں، توقع عمران خان سے، شکایت بھی انہی سے.

قائدِ انقلاب مانا کہ ق لیگ، ایم کیو ایم سے اتحاد آپ کی مجبوری، مانا کہ بیورو کریسی کا آپ کو علم نہیں، لہٰذا گڈ، بیڈ کا پتا نہیں چل رہا، مانا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خودکشی کر لوں گا، بھیک نہیں مانگوں گا سمیت 80فیصد آپ کی یوٹرنیاں ’راج نیتی‘ کی مجبوری، مانا ابھی اقتدار میں آئے آپ کو 3ماہ ہی ہوئے مگر شکایت یہ کہ ناصر درانی استعفیٰ دے جائیں تو آپ پلٹ کر خبر ہی نہ لیں.

شکایت یہ کہ آپ دہری شہریت والے نیب زدہ زلفی بخاری کو سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی وزیر مملکت بنا دیں، شکایت یہ کہ غریب کی گائے اعظم سواتی کی شاہی باغ میں قدم رکھے، آپ آئی جی اسلام آباد فارغ کر دیں، چلیں یہ شکایتیں بھی رہنے دیں، قائدِ انقلاب آپ کا یہ کہہ دینا کہ ’’یوٹرن نہ لینے والا بے وقوف، یوٹرن نہ لینے والا لیڈر ہی نہیں‘‘ یہ ہضم نہیں ہو رہا.

ملک و قوم کیلئے دنیا بھر میں یوٹرن لئے جائیں مگر ہر روز یوٹرنی، آئے روز پٹڑی بدل جانا، ہر دوسری بات سے پھر جانا اور پھر اپنی نالائقی، نااہلی، بے وقوفی، بونگی کو لیڈر شپ قرار دے دینا، ہضم نہیں ہو رہا، قائدِ انقلاب اگر یہ مان لیا جائے کہ ’’یوٹرن نہ لینے والا بے وقوف، یوٹرن لینے والا لیڈر‘‘ تو پھر نواز، شہباز، فضل الرحمٰن، سراج الحق اور زرداری صاحب، نہ صرف آپ سے بڑے لیڈر، آپ سے زیادہ عقلمند بلکہ یہ تو آج کے ڈیگال، ماؤ، منڈیلے، قائدِ انقلاب کیا کہوں، قائدِ انقلاب مزا نہیں آیا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں