62

ملے گی اُس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ… محمد اظہارالحق

نہیں! بیورو کریسی ہشت پا نہیں! یہ آکٹوپس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ آکٹو پس کو مار سکتے ہیں۔ یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ بیورو کریسی پیرِتسمہ پا ہے ؎ ہشیار! کہ پیرِ تسمہ پا ہے یہ ضُعف سے کانپتا زمانہ بیورو کریسی تحریکِ انصاف کی گردن پر سوار ہے۔ ٹانگیں گلے میں حمائل کیے۔ رہائی ہو تو کیسے۔ رہائی ہو بھی نہیں سکتی۔ تحریکِ انصاف کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟

فواد چوہدری، افتخار درانی اور دوسرے عمائدین کے نزدیک یہ مسئلہ ترجیحی ہی نہیں! رہے شفقت محمود تو خود بیورو کریسی کے اُس برہمن گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جو بگاڑ کا ذمہ دار ہے۔ یادش بخیر عشرت حسین بھی اِسی مردم خور قبیلے کے رکن ہیں۔ کبھی سنتے تھے کہ بندہ جماعتِ اسلامی سے نکل جائے، جماعت اسلامی بندے کے اندر سے نہیں نکلتی۔

نہ معلوم یہ درست ہے کہ نہیں! مگر یہ ضرور درست ہے کہ بندہ بیورو کریسی کے برہمن گروپ ڈی ایم جی سے نکل جائے پھر بھی تفاخر کا احساس تا حیات رہتا ہے۔ قدرت چوٹی پر لے جائے بندہ وفاقی سیکرٹری بن جائے۔ وزیر بن جائے، سینیٹ میں بیٹھ جائے مگر ڈپٹی کمشنری کی یاد مرحومہ ماں کی یاد کی طرح ستاتی رہتی ہے۔

تحریک انصاف کے گرد گھیرا بیورو کریسی کے مخصوص گروہ کا مضبوط ہے۔ جو طبقہ مسئلے کا حصہ ہے، وہ مسئلہ کیسے حل کر سکتا ہے؟

جب تک بیورو کریسی کے تمام گروپوں کو برابر کے سول سرونٹ نہیں سمجھا جاتا، جب تک فارن سروس، پولیس سروس، ایف بی آر، آڈیٹر جنرل، کامرس اینڈ ٹریڈ، انفارمیشن سروس، ریلوے، پوسٹل سروس اور آفس مینجمنٹ، سب سے اصلاحات کے لیے مشورہ نہیں لیا جاتا، جب تک اصلاحات کمیشن میں ان تمام گروہوں کی مضبوط اور بامعنی نمائندگی نہیں ہو جاتی، ریفارم کی ہر کوشش رجعت قہقری ثابت ہو گی۔

ہاتھی پلٹ کر اپنے ہی لشکر کو روندتے رہیں گے۔ نئی حکومت کی معصوم لاعلمی دیکھیے یا اسے بے نیازی پر محمول کیجیے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے جاتے جاتے نوکر شاہی کو اپنی زلف کا اسیر کرنے کے لیے خزانے کا منہ کھول دیا۔ یہ فیصلہ ہوا کہ گریڈ بیس، اکیس اور بائیس کے افسروں کو سرکاری گاڑیاں نہیں دی جائیں گی۔

وہ اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کریں گے۔ بدلے میں انہیں الائونس دیا جائے گا۔ اس پالیسی کو Monetizationکا نام دیا گیا؛چنانچہ درجہ بہ درجہ ان حضرات کو ماہانہ خطیر رقم ملنے لگی۔ بڑے گریڈ والوں کو ایک لاکھ ماہانہ، کم والوں کو نوے ہزار وغیرہ! سرکاری ڈرائیور بھی ہٹا لیے گئے۔

مگر گنتی کے چند دیانت دار افسروں کو چھوڑ کر باقی چوپڑی بھی کھانے لگے اور دو دو بھی۔ ایک لاکھ روپے ماہانہ جیب کے تنور میں ڈالنے لگے اور سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کا استعمال پہلے کی طرح جاری رکھا۔

چنانچہ خزانے پر کروڑوں کا اضافی اور ناروا بوجھ پڑ رہا ہے۔ عقل کے اندھوں نے پالیسی بناتے وقت یہ نہ سوچا کہ گاڑیاں اور ڈرائیور انہی افسروں کے تو رحم و کرم پر ہیں۔ بلی دودھ کی رکھوالی کرے گی یا پی جائے گی؟ تحریکِ انصاف کی حکومت اگر چوکنی، چُست اور سمارٹ ہوتی تو ابتدائی ایام ہی میں اس لُوٹ سیل کو بند کرتی۔

ماہانہ الائونس بند کرتی یا سرکاری گاڑیاں ایک جگہ جمع کر کے بیچتی یا جیسے بھی ہوتا، انہیں ٹھکانے لگاتی۔ اسی طرح ڈرائیوروں سے جن کا غلط استعمال ہو رہا ہے، مسلسل ہو رہا ہے اور وسیع پیمانے پر ہو رہا ہے، کچھ اور کام لینے کا فیصلہ کیا جاتا۔ مگر لوٹ سیل جاری ہے۔ انگلیاں گھی میں ہیں۔ سر کڑاہیوں میں ہیں۔ اٹھائی گیروں کو کھلی چھٹی ہے۔
نوکر شاہی کے ارکان ایک دوسرے کو کمک پہنچاتے ہیں۔ حکمرانوں کو وہ تجاویز پیش کی جاتی ہیں جن سے اہلکار بھائیوں کا فائدہ ہو۔ اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لیے کمال کی نظمیں لکھیں جن میں مزا بچوں کے لیے ہے اور سبق بڑوں کے لیے۔ کوّے پر، جو ان کی معرکہ آرا اور مشہور نظم ہے، وہ نوکر شاہی پر صادق آتی ہے۔

کوئی ذرا سی چیز جو پالے/کھائے نہ جب تک سب کو بلا لے/کھانے دانے پر ہے گرتا/پیٹ کے کارن گھر گھر پھرتا/اچھلا کودا لپکا سکڑا/ہاتھ میں تھا بچے کے ٹکڑا/آنکھ بچا کر جھٹ لے بھاگا/واہ رے تیری پھرتی کاگا! بیورو کریسی کے مسائل رہے ایک طرف۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم دیس دیس ملک ملک چندہ اکٹھا کرنے جا رہے ہیں تو ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے دعوے کدھر گئے؟

آٹھ فیصد آبادی ٹیکس ادا کرتی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے سوا کوئی اور حکومت کے ہاتھ نہیں آتا۔ ادبار کا یہ عالم ہے کہ جس ملک کو فیاضیٔ قدرت نے ہر طرح کے وسائل بہتات سے دیئے ہیں وہ ملک دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے۔ یہ امر اطمینان بخش ہرگز نہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد ابھی تک ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے ضمن میں حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

وزیر اعظم نے اقتدار میں آنے سے پہلے بارہا یقین دلایا تھا کہ اس سلسلے میں انقلابی اقدام اٹھائے جائیں گے۔ تو کیا قوم پوچھنے کی جسارت کر سکتی ہے کہ ابھی تک کیوں کچھ نہیں کیا گیا؟ دوسری طرف قانون سازی کی ضرورت دروازے پر کھڑی مسلسل دستک دے رہی ہے۔

سابق چیف جسٹس پاکستان سعید الزمان صدیقی مرحوم کے پلاٹ پر جس طرح قبضہ کیا گیا جس طرح ان کی معمر اہلیہ کو حبس بیجا میں رکھا گیا، اسلحہ کی نوک پر دھمکیاں دی گئیں اس سے امن و امان کی صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر سابق چیف جسٹس اور سابق گورنر کے اہلِ خانہ کے ساتھ یہ ظلم روا رکھا جا سکتا ہے تو عام شہریوں کے ساتھ کیا نہیں ہو رہا ہو گا۔ قبضہ مافیا سرطان ہے جو اندر تک پھیلا ہوا ہے۔

بیرون ملک رہنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی جائیدادوں پر اس مافیا نے قبضہ کر رکھا ہے کوئی شنوائی ہے نہ تدارک! مالکوں کے سامنے ان کے پلاٹوں اور مکانوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ اگر حکومت اس سرطان کا علاج کرنا چاہتی ہے تو قانون سازی کرے اور ایسے مجرموں کو عبرت ناک اور سخت ترین سزا دے تا کہ اس لعنت کا خاتمہ ہو سکے۔

رہا سو دنوں کا حوالہ تو تحریک نے یہ گھنٹی اپنے گلے میں خود ڈالی ہے۔ ناتجربہ کاری اور بچپنے کے طفیل ایسے اعلانات کرتے رہے جو حقیقت پسندانہ نہیں تھے۔ یہ کوئی پانچ مرلے کے مکان کی تعمیر تھوڑی تھی کہ سو دنوں میں دیواریں کھڑی ہو جاتیں اور چھت بھی پڑ جاتی۔ معاملات عشروں کے بگڑے ہوئے ہیں۔آوے کا آوا خراب ہے۔

راستے کی صعوبتوں کا پتہ تب چلتا ہے جب سفر شروع کر دیا جائے۔ گھر بیٹھ کر خاردار جنگلوں کو عبور کرنا آسان لگتا ہے۔ قائم رہنے والے نقوش پا اس قدر جلد نہیں دیکھے جا سکتے۔

کاش حکومت کے اربابِ حل و عقد نعروں، طعنوں اور دعوئوں سے ہٹ کر ٹھوس بنیادوں پر کوئی اقدامات اٹھاتے جن کے اثرات دور رس ہوتے۔ اپوزیشن سو دنوں کی کارکردگی مانگ رہی ہے۔مگر بقول مصطفی زیدی ؎ ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلائو ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ!!

بشکریہ نائنٹی ٹو

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں