49

روس پر پابندیوں میں اضافہ کیا جائے: ولو دائمر یلچنکو

روس پر پابندیوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ واحد راستہ یہی ہے کیونکہ اس کے علاوہ روس کوئی اور زبان نہیں سمجھتا: ولو دائمر یلچنکو

یوکرین کے اقوام متحدہ کے لئے مستقل نمائندے ولو دائمر یلچنکو نے روس پر عائد پابندیوں میں اضافے کی اپیل کی ہے۔

یلچنکو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی پر بحث سے متعلقہ اجلاس سے قبل اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ روس پر پابندیوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ واحد راستہ یہی ہے کیونکہ اس کے علاوہ روس کوئی اور زبان نہیں سمجھتا۔

روس نے بحیرہ آزاق میں یوکرین کے ساتھ پیش آنے والے تناو کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا تھا تاہم “سرحدوں کی خلاف ورزی” کی وجہ سے طلب کردہ 15 رکنی سلامتی کونسل میں روس کے، 9 ضروری ممالک کا، تعاون حاصل نہ کر سکنے پر اجلاس “بحیرہ آزاق میں روس۔ آزاق کشیدگی” کے عنوان سے منعقد کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے لئے امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلے نے برطانیہ، ہالینڈ، پولینڈ اور سویڈن کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم یوکرین کی حاکمیت اور زمینی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں اور کونسل ‘روس کے تحریکی اقدامات’ پر “سرحدی خلاف ورزی ” کے عنوان سے نہیں بلکہ معاملے کے لئے موزوں عنوان کے ساتھ غور کرے گی۔

نکی ہیلے نے کہا کہ ہفتے کے آخر میں روس نے انتہائی غیر ذمہ داری کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کیا۔

روس کا آبنائے کیرچ سے یوکرین کے داخلے کے راستے میں رکاوٹ بننا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ اس گستاخانہ حرکت کی بین الاقوامی برادری کی طرف سے مذمت کی جانی چاہیے اور اس حرکت کو کسی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔

تاہم روس کے نائب مندوب دمتری پولینسکی نے یوکرین کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا قصور وار ٹھہرایا ہے۔

پولینسکی نے کہا ہے کہ یہ واضح دکھائی دے رہا ہے کہ اس تحریکی اقدام کا منصوبہ بہت پہلے سے بنایا گیا تھا اور اسے مغربی حکومتوں کی حمایت حاصل تھی۔

دمتری پولینسکی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یوکرین کے خطرناک اقدامات کی ذمہ داری نہیں اٹھانی چاہیے۔

واضح رہے کہ 25 نومبر کو بحیرہ آزاق میں روس کے جنگی جہاز یوکرین کے جنگی جہازوں کے مقابل آئے اور روس کے کھلے پانیوں میں داخل ہونے کے دعوے سے یوکرین کے جنگی جہازوں کے خلاف مداخلت کی۔

یوکرین کی بحری فورسز کے کمانڈ آفس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بحیرہ آزاق کے اطراف میں روسی وفاقی سکیورٹی سروس کی کشتی سے یوکرین کے جنگی جہازوں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 6 یوکرینی فوجی زخمی ہو گئے اور جہازوں کو بھی روسی اسپیشل فورسز کی طرف سے تحویل میں لے لیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں