66

پاکستانی ثقافت یا فحاشی کا عروج؟… اقصیٰ عدنان شیخ

پاکستان ٹیلی ویژن 26 نومبر 1964 میں قائم ہوا اور اب اسے قائم ہوئے 53 سال گزر چکے ہیں۔ 26 نومبر بروز جمعرات ہی کے روز جنرل ایوب خان نے لاہور سے پی ٹی وی کی نشریات کا آغاز کیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ڈرامے اپنی مثال آپ تھے جنہوں نے شائقین کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ ان ڈراموں کو دیکھنے کےلیے گلیوں اور محلوں میں سناٹے چھا جاتے تھے۔ آج تک یہ ڈرامے لوگوں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔

پی ٹی وی کے مایہ ناز ڈراموں میں خدا کی بستی، انکل عرفی، شہزوری، وارث، دیواریں، ان کہی، الف نون، ففٹی ففٹی، سونا چاندی، اندھیرا اجالا، تنہائیاں، آنگن ٹیڑھا، دھوپ کنارے، الفا براوو چارلی، بندھن اور کشکول جیسے ڈرامے قابل ذکر ہیں۔ یہ ڈرامے اصلاحی اور معاشرتی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی ثقافت کی بھرپور عکاسی بھی کرتے تھے، جنہیں دیکھ کر انسانی سوچ میں مثبت تبدیلی آتی تھی؛ جب کہ ان ڈراموں میں بے باکی اور عریانیت کا کوئی نام و نشان نہیں ہوا کرتا تھا۔ یہ ڈرامے فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جاسکتے تھے۔ لیکن آج جب شوبز ترقی کی راہوں پر گامزن ہے تو ڈراموں اور فلموں میں بے شمار تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔

پاکستانی شوبز نے اس بات کا تہیہ کرلیا ہے کہ اگر ڈراموں میں بے باک ڈائیلاگ شامل کیے جائیں، کرداروں کے پہناوے میں عریانیت کو فروغ دیا جائے اور ’’بولڈ سین‘‘ شامل کیے جائیں تو تیزی سے ریٹنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے اور خوب پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔ پاکستانی شوبز کی جانب سے پھیلائی گئی ’’انٹرٹینمنٹ‘‘ کی اس نمائش کو اگر ’’ٹکاؤ بزنس‘‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

انٹرٹینمنٹ چینلز کی جانب سے کثیر تعداد میں دکھائے جانے والے ان عریاں ڈراموں میں محرم اور نامحرم کے فرق کو مکمل طور پر ختم کیا جاچکا ہے۔ ان ڈراموں میں مرد اداکار اور خواتین اداکارائیں باپ بیٹی، بہن بھائی، اور شوہر بیوی جیسے کردار نباہتے وقت نہایت بولڈ انداز میں ایک دوسرے کے گلے لگ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ازدواجی زندگی میں ہونے والے تمام معاملات بھی اب ڈراموں میں عام دکھائے جاتے ہیں۔ پی ٹی وی نیٹ ورک کے ڈراموں کی طرح ان ڈراموں کو فیملی کی ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھا جاسکتا کیوں کہ بعض اوقات ایسے سین بھی آجاتے ہیں کہ مجبوراً چینل تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

پاکستانی ڈراموں میں اب مغربی کلچر نمایاں دکھائی دیتا ہے جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ زندان، گھر تتلی کا پر، اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے، حیوان، ایک پَل، میرے خدایا، ٹیلی فلم بساط، ٹیلی فلم آئینہ، کیسے تم سے کہوں، چپ رہو، خدا دیکھ رہا ہے، اعتراض، جانم، شرط، مجھے خدا پہ یقین ہے جیسے کئی ڈرامےاس کی بڑی مثال ہیں جن میں محض ٹی آر پی بڑھانے کی غرض سے نہایت ہی بولڈ سین شامل کیے گئے۔

نہ صرف ڈرامے بلکہ پاکستانی فلموں اور ایوارڈ شوز میں بھی عریانی کو بے پناہ فروغ دیا جارہا ہے؛ اور فلم انڈسٹری کی ترقی کے نام پر تیزی سے پیسہ کمایا جارہا ہے۔ چونکہ پاکستانی عوام ہالی ووڈ اور بالی ووڈ فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں، لہذا پاکستانی فلم انڈسٹری (یعنی لالی ووڈ) بھی فلموں میں مغربی اور بھارتی کلچر کا تڑکا لگا کر عوام کی توجہ حاصل کررہی ہے۔ اس کی مثال جوانی پھر نہیں آنی اور رانگ نمبر وغیرہ جیسی فلمیں ہیں۔

پاکستانی ڈرامے اور فلمیں دوسرے کئی ممالک میں دیکھے اور پسند کیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، اس لیے پاکستانی شوبز کی جانب سے فلموں اور ڈراموں میں دکھائی جانے والی بے باکی اور عریانی کو سراہا نہیں جاتا بلکہ مذاق اڑایا جاتا ہے، کیوں کہ ہم ایک اسلامی ملک کی نمائندگی کررہے ہیں۔ مگر دوسرے ممالک میں آج بھی پی ٹی وی نیٹ ورک کے ڈراموں اور پرانی پاکستانی اردو فلموں کی تعریف کی جاتی ہے کیونکہ ان میں ملت اسلامیہ پاکستان کی ثقافت کی صحیح عکاسی کی جاتی تھی۔

میرا سوال آج کے تمام ڈائریکٹز، رائٹرز اور ایکٹرز سے یہ ہے کہ کیا ڈراموں اور فلموں میں عریانی اور بے باکی دکھانا ضروری ہے؟ کیا ایک صاف ستھرا اور مضبوط اسکرپٹ شائقین کی توجہ حاصل کرنے کےلیے کافی نہیں ہوگا؟ کیا آپ کو بطور شوبز انڈسٹری یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ آپ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستانی معاشرے کی غلط تصویر پیش کررہے ہیں؟

اگر ہم اپنے ملکی وقار اور ثقافتی حدود کا خیال رکھتے ہوئے ڈرامے اور فلمیں بنائیں تو ہم بہتر طور پر تعریف اور پذیرائی حاصل کرسکتے ہیں؛ اور اپنی روایتوں، ثقافت، اقدار اور معیار کو دنیا بھر میں اجاگر کرسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں