223

مزدوروں کا عالمی دن… ڈاکٹرزاہد علی خان

دنیا کی تاریخ میں پہلی بار یکم مئی1886 کو امریکہ کے مزدوروں نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے پورے امریکہ میں احتجاجی جلوس نکالے اور ہڑتالیں کیں سب سے بڑا جلوس شکاگو میں نکالا گیا۔ جس میں 3 لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا۔انکا مطالبہ تھا 8 گھنٹہ کام کا وقت اور بہتر کام کے حالاتِ ۔ کیونکہ اسوقت مزدوروں سے 10 سے 16گھمٹہ کام لیا جاتا تھا۔ اور انکے حالات زندگی بہت ابتر تھے۔انگریز مصنف جیک لندن نے اپنی کتاب ‘آیرن ہیل’میں ان حالات کا ذکر کیا ہے۔آور سہی نقشہ کھینچا ہے۔

حکمرانوں نے مزدوروں کے اس جلوس کو سختی سے کچل دیا۔ مظاہرین کے خلاف پولیس کی کاروائیوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ مزدور ہلاک ہو گئے۔اسوقت احتجاج کے طور پر مزدوروں نے اپنی قمیضوں کوخون میں ڈبو کر انکےپرچم بنالیے تھے۔ اور جب سے ہی سرخ پرچم مزدوروں کا نشان بن گیا ہے۔اس جلوس میں حصہ لینے والے کنی مزدوروں کو پھانسی بھی دی گئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود امریکہ میں اس واقعہ کے بارے میں لوگوں کو بہت کم علم ہے۔ اس بارے میں لوگ سوچتے ہیں کہ یہ کیوبا یا سویت یونین میں منانے جانے والا کوئی دن ہے۔

حقیقت میں اس تحریک نے جسکی بنیاد امریکہ کے مزدوروں نے اپنے خون سے ڈالی۔آج یہ ساری دنیا کے ملکوں کے مزدوروں کی تحریک بن گئی ہے۔ اسکے بعد دنیا کے ملکوں میں ٹریڈ یونین اور لیبر یونین وجود میں آنیں۔ اور لوگ اپنے حقوق کا مطالبہ مستحکم انداز میں کرنے لگے۔ یورپی‌ملکوں میں آج جو سہولیات مزدوروں اور نوکر بیشہ لوگوں کو میسر ہیں۔ یہ ان ہزار ں امریکی مزدوروں کی قربانی کا نتیجہ ہے۔ جنہوں نے شکاگو میں آپنی‌ جانیں قربان کیں۔

جب روس میں 1917 نومبر کو لینن کی سربراہی‌میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہوا تو بنیادی طور پر یہ مزدوروں کا ہی انقلاب تھا۔ اسوقت کے روس کے مزدوروں کے‌حالات بھی بہت ابتر تھے۔ روس میں انقلاب کے آنے کی اصل وجہ بھی یہی تھی ۔ انقلاب کیے بعد جب مزدوروں اور کسانوں کی حکومت بنانے کا اعلان کیا گیا۔تو “دنیا کے مزدوروں ایک ہو جاو” کے نعروں کے ساتھ پرچم بھی سرخ رکھا گیا، شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں۔ اسطرح روس میں 1st May کو ملک کا اہم دن قرار دیا گیا۔ اور اسکو بین الاقوامی حیثیت دی گئی۔ حقیقت میں اس دن کو بین الاقوامی دن کی حیثیت سے آج ساری دنیا میں منایا جاتا ہے ۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں