289

دوسری جنگ عظیم میں سوویت عوام کی بے مثال فتح کی 75ویں سالگرہ.. ڈاکٹر زاہد علی خان

دوسری جنگ عظیم انسانیت کی تاریخ میں سب سے بڑی اور تباہ کن جنگ تھی۔ روس میں اسکو فاشزم کے خلاف عظیم محب وطنی کی جنگ کہا جاتا ہے۔ 22جون 1941کو ہٹلری جرمنی نے ایک مارشل پلان کے تحت یورپی ملکوں پر قبضہ کرتے ہوے۔ بغیر کسی اعلان کے سوویت یونین پرحملہ کردیا۔ ملک ایسی جنگ کے لئے تیار نہیں تھا۔ ہٹلر کے پلان بارباڈوس کے تحت 90 دنوں میں اس نے پورے ملک پر قبضہ کرلینا تھا. لیکن اسکو اس کاروائی میں پانچ سال لگے۔ اور پھر زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سوویت لوگوں نے محب وطنی کے جڑبہ سے سرشار ہو کر حملہ آوروں کے خلاف جنگ کی اور فتح سے ہم کنار ہوئے۔. اسٹالن کی سرکردگی میں سوویت عوام نے خطرناک دشمن کے خلاف پوری مستحکمی ا ور معرکہ آرائی سے جنگ کی اور فتح پائی۔ ویسے تو شروع دن سے ہی سوویت عوام نے مزاحمت کی تھی۔ لیکن 19نومبر 1942سے سارے محازوں پر مکمل جوابی کاروائی کا آغاز کردیا۔ اور ان سارے شہروں اور علاقوں میں جہاں جرمن قابض ہو چکے تھے آزاد کرانا شروع کردیا۔ اور انکو پیچھے دھکیلنا شروع کردیا۔

لینن گراڈ جسکا 872 دن جرمن فوجوں نے حثار کیے رکھا 1943 میں آزاد کرالیا۔اور 1944 میں پورے ملک کو آزاد کراکر یورپ کو آزاد کرانے کے لئے آگے بڑھنے لگے۔اور آخر کار سارے یورپی ملکوں کو آزاد کراتے ہوئے برلن کے مرکز میں ریستاگ پر جھنڈا لہرادیا۔ اس جنگ میں سوویت یونین نے 27 ملین اپنے جوانوں کی قربانی دی۔ ملک کا کوئی خاندان ایسا نہیں تھا جسکا کوئی نہ کوئی فرد اس جنگ میں کام نہ آیا ہو۔پانچ سال کے دوران 13 ملین لوگ اس جنگ میں ملوث رہے۔ اس جنگ میں 20 ہزار ٹینکوں، ایک لاکھ 65 ہزار توپوں اور 19 ہزار جہازوں کو استعمال کیا گیا۔ فاشسٹوں نے لینن گراڈ کے طویل محاصرہ کے علاوہ 1810 شہر تباہ کیے اور 80 ہزار گاوں نیست و نابود کیے۔ حقیقت میں یہ تاریخ کی سب سے بڑی جنگ تھی۔

دنیا کی قوموں کو روسی عوام کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ کہ آج وہ آزادی کی فضا میں سانس لی رہے ہیں۔ ورنہ آج دنیا میں فاشزم کا بو بالا ہوتا اور لوگ غلامی کے جال میں جکڑے ہوے ہوتے۔ خدا سے دعا ہے کہ دنیا میں امن قائم رہے اور جنگ کبھی انسانیت کو لاحق نہ ہو۔ آمین

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں