182

امریکہ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کردیں

ماسکو (شاہد گھمن سے) امریکہ نے روس کے‌خلاف نئی پابندیاں عائد کردی ہیں امریکی وزارت خزانہ نے روس کی 16 کمپنیوں اور سولہ افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں جن پر اس بات کا الزام ہے کہ انہوں نے امریکی انتخا‌بات میں مداخلت کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ نے جمعرات کو اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ جن کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ اس میں روسی حکومت کی اہم ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن پر امریکہ کے خلاف اختلافی کاروائیوں کی وجہ سے پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

فنانس سے متعلق پابندیوں کے تحت روس نہ تو قرض لے سکتا ہے اور نہ دے سکتا ہے اس کے علاوہ پابندیوں میں ایسی ٹیکنالوجیکل کمپنیاں بھی شامل ہیں جن پر امریکہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف ہائپر جاسوسی میں مصروف ہیں۔

اعلان کے مطابق امریکی کمپنیوں پر پابندی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے روس کے سنٹرل بینک کے قرضہ کے ڈرافٹ کو خریدنے یا قرض دینے کے اقدامات سے متعلق ہوں۔ اس کو امریکی کمپنیاں خرید نہیں سکتی ہیں چاہے وہ ڈالر میں ہو ں یا روبل میں۔

اسکے علاوہ روسی قومی بحالی کے فنڈ اور روسی وزارت خزانہ بھی شامل ہیں جبکہ امریکن فائنینشل انسٹیٹیوٹ ان کو کسی قسم کا قرض نہیں دیں گے

اس قسم کی پابندیاں روس پر 2019 سے قائم ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیاں روسی خاص اداروں کی کاروائیوں کی وجہ سے لگائی جارہی ہیں ۔اس میں فوجی ٹیکنیکل کمپنییاں بھی شامل ہیں اور ایسی کمپنیاں بھی جو اہم ٹیکنالوجی کے زمرے میں آتی ہیں 15 اپریل سے ایسی کمپنیاں پابندیوں میں شامل ہیں جو ٹیکنالوجیکل سیکٹر میں کام کر رہی ہیں اور خاص اداروں کی مدد کر رہی ہیں جن میں فوجی انوویشن ٹیکنالوجی “ایرا” “پوزیٹیو ٹیکنالوجس” اور سائنٹیفک انسٹیٹیوٹ اور کور پوزیٹو ٹیکنالوجی کے ادارے شامل ہیں اور وہ سارے ادارے جو روسی معیشت کو استحکام دے رہے ہیں۔ پابندی کے زمرے میں آتے ہیں۔

مزید 16 کمپنیاں اور سولہ افراد جن پر اس بات کا الزام ہے کہ انھوں نے امریکہ کے انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

امریکہ کی جانب سے نئی لگنے والی پابندیوں میں ایسی کمپنیاں اور ایسے ادا رے بھی شامل ہیں جنہوں نے روس اور کریمیا کے درمیان پل کی تعمیر میں حصہ لیا تھا ان کمپنیوں کے خاص عہدیداران ان پابندیوں کا ہدف بنے ہیں اور اس پل کے ساتھ ٹرین لائن ڈالنے والی کمپنیاں بھی پابندیوں کا شکار ہوئی ہیں۔ اس پابندی کی لسٹ میں صدارتی خدماتی ادارے کے سربراہ کے نائب کا بھی نام ہے

امریکہ نے روسی اطلاعاتی اداروں کو بھی نشانہ بنایاہے جس میں نیو فاسٹ انٹرنیٹ سروس اور صحافی بھی شامل ہیں اس میں قومی سلامتی فنڈ کا بھی ذکر کیا گیاہے اور ایکسپورٹ کمیٹی بھی شامل ہے جو روسی حکومت کا حصہ ہے۔ 3 روسی تجارتی کمپنیاں ہیں جو روسی سرکاری تجارتی کاروائیوں کی سربراہی کررہی ہیں ان پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں